Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
329 - 576
وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرْجِعُہُمْ ثُمَّ اللہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ اس میں سے جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے ان کے کاموں پر۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم تمہیں اس چیزکا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں یا ہم تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں بہرحال انہیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے پھر اللہ ان کے کاموں پرگواہ ہے ۔
{ وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ:اور ہم تمہیں دکھا دیں۔} فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جس عذاب کا ہم نے کفار سے وعدہ کیا ہے اگر اس کا کچھ حصہ آپ کو دنیا میں ہی دکھا دیں تو وہ ملاحظہ کیجئے اور اگر دنیا میں وہ عذاب دکھانے سے پہلے ہم آپ کواپنے پاس بلالیں تو عنقریب آخرت میں آپ ان کے عذاب کو دیکھ لیں گے کیونکہ آخرت میں انہیں بہر حال ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اورکفار دنیا میں جو اَعمال کرتے ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر گواہ ہے اور قیامت کے دن وہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔  اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کافروں کے بہت سے عذاب اور ان کی ذلت و رسوائیاں آپ کی حیاتِ دنیا ہی میں دکھائے گا چنانچہ بدر وغیرہ میں ذلت و رُسوائیاں دکھائی گئیں اور جو عذاب کافروں کے لئے کفر و تکذیب کی وجہ سے آخرت میں مقرر فرمایا ہے وہ آخرت میں دکھائے گا۔(1) 
وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمْ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالْقِسْطِ وَہُمْ لَایُظْلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۶، ۲/۳۱۸۔