نے یہ صلاحیت ان میں پیدا کی مگر انہوں نے خود اسے تباہ کردیا تو قصور خود ان کا ہے کسی اور کا نہیں۔
وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ کَاَنۡ لَّمْ یَلْبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُوۡنَ بَیۡنَہُمْ ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآ ِٔ اللہِ وَمَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن انہیں اٹھائے گا گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی آپس میں پہچان کریں گے پورے گھاٹے میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا اور ہدایت پر نہ تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن (اللہ) انہیں اٹھائے گا گویا وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی سے زیادہ ٹھہرے ہی نہیں تھے، آپس میں ایک دوسرے کو پہچان رہے ہوں گے۔ بیشک اللہ کی ملاقات کو جھٹلانے والے نقصان میں رہے اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔
{ وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ:اور جس دن انہیں اٹھائے گا۔} یہاں قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ،آپ وہ وقت یاد کیجئے جس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ ان مشرکوں کو قبروں سے حساب کی جگہ میں حاضر کرنے کے لئے اٹھائے گا تو اس روز کی ہَیبت و وحشت سے یہ حال ہوگا کہ وہ دنیا میں رہنے کی مدت کو بہت تھوڑا سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہگویا وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی کے علاوہ ٹھہرے ہی نہیں تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار نے طلب ِدنیا میں اپنی عمریں ضائع کردیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت جو آج کار آمد ہوتی وہ بجا نہ لائے تو ان کی زندگانی کا وقت ان کے کام نہ آیا اس لئے وہ اسے بہت ہی کم سمجھیں گے ،نیز قبروں سے نکلتے وقت تو ایک دوسرے کو ایسا پہچانیں گے جیسا دنیا میں پہچانتے تھے پھر قیامت کے دن کے ہَولناک اور دہشت آمیز مَناظِر دیکھ کر یہ معرفت باقی نہ رہے گی اور ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حالات مختلف ہوں گے کبھی ایسا حال ہوگا کہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے کبھی ایسا کہ نہ پہچانیں گے اور جب پہچانیں گے تو کہیں گے جس نے اپنی باقی رہنے والی آخرت کو فانی دنیا کے بدلے بیچ دیا وہ نقصان میں رہا کیونکہ اس نے فانی کو باقی پر ترجیح دی ۔آیت کے آخر میں فرمایا کہ انہیں ا س چیز کی ہدایت نہ تھی جو انہیں روزِ قیامت کے اس خسارے سے نجات دیتی۔(1)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۵، ۲/۳۱۷-۳۱۸، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۴۷۵، ملتقطاً۔