انہیں ہدایت کی کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت اوراس سے اوپر والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دی ہے کہ جس کی سماعت کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سَلب فرما لیا ہے آپ اسے سنا نہیں سکتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جس کی بصارت لے لی ہے آپ اسے ہدایت کی راہ نہیں دکھا سکتے اور جس کے ایمان نہ لانے کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فیصلہ فرما دیا ہے آپ اسے ایمان کی توفیق نہیں دے سکتے لہٰذا آپ ان مشرکین کے ایمان قبول نہ کرنے پر غمزدہ نہ ہوں۔ (1)گویا فرمایا گیا کہ کفار حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دیکھتے تو ہیں لیکن صرف سر کی آنکھوں سے، دل کی آنکھوں سے نہیں جس سے(دیکھنے والا) صحابی بن جائے اور جو حضور ِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو صرف محمد بن عبداللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) ہونے کے لحاظ سے دیکھے وہ محرومِ اَزلی ہے اور جو محمَّد رسولُ اللہ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) ہونے کے لحاظ سے دیکھے وہ جنتی ہے، اس لئے ا ن دیکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اندھا فرمایا یعنی دل کے اندھے جنہیں ہدایت نہ نصیب ہو سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمالِ مصطفی دیکھنے والی نگاہ اور ہوتی ہے اور وہ آنکھ وہ ہے جس سے حضرت ابوبکر و عمر اورصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے دیکھا ہے۔
اِنَّ اللہَ لَایَظْلِمُ النَّاسَ شَیْـًٔا وَّلٰکِنَّ النَّاسَ اَنۡفُسَہُمْ یَظْلِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا، ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
{ اِنَّ اللہَ لَایَظْلِمُ النَّاسَ شَیْـًٔا :بیشک اللہ لوگوں پرکوئی ظلم نہیں کرتا۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ مشرکین کی عقل ، سماعت اور بصارت اللہ تعالیٰ نے سَلب فرما لی ہے جس کی وجہ سے وہ ہدایت حاصل نہیں کر سکتے اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ یہ لوگوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کاظلم نہیں کیونکہ کفار کا ہدایت سے محروم ہونا ان کے اپنے کرتوتوں اور ضد و عناد کے سبب ہے ، یہ نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان میں حق قبول کرنے کی صلاحیت ہی پیدا نہیں کی تھی بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۳، ۲/۳۱۷، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۴۷۴،صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳/۸۷۲، ملتقطاً۔