قرآنِ پاک اور دین کے اَحکام سنتے ہیں لیکن آپ سے شدید بغض اور عداوت کی وجہ سے یہ سننا انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا تو جس طرح آ پ بہرے کو نہیں سنا سکتے اسی طرح اسے بھی نہیں سنا سکتے جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے سننے سے بہرہ کر دیا ہے اور جو کچھ یہ سنتے ہیں اس سے نفع اٹھانے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا اور اسے قبول کرنے کی توفیق سے محروم کر دیا ہے اورجب وہ سن کر عمل نہیں کرتے تو وہ جاہلوں کی مانند ہیں۔ (1)
آیت’’ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ یَّسْتَمِعُوۡنَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے تین چیزیں معلوم ہوئیں :
(1)… بغض و عناد کی وجہ سے آدمی کا دل اندھا ، بہرا ہوجاتا ہے ، اس لئے وہ سامنے والے کی بات نہیں مانتا۔
(2)… کسی سے بات منوانی ہو تو پہلے اس کے دل میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرنا چاہیے۔
(3)…علم ہونے کے باوجود عمل نہ کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک جاہل ہی کے حکم میں ہے۔
وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تَہۡدِی الْعُمْیَ وَ لَوْکَانُوۡا لَایُبْصِرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان میں کوئی تمہاری طرف تکتا ہے کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگرچہ وہ نہ سوجھیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان میں کوئی تمہاری طرف دیکھتا ہے توکیا تم اندھوں کو راستہ دکھا دو گے؟ اگرچہ وہ دیکھتے ہی نہ ہوں۔
{ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ:اور ان میں کوئی تمہاری طرف دیکھتا ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ان مشرکین میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو تمہاری طرف اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، آپ کی سچائی کے دلائل اور نبوت کی نشانیوں کا مُشاہدہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ تصدیق نہیں کرتے تو کیا آپ دل کے اندھوں کو راستہ دکھا دیں گے اگرچہ وہ دیکھتے ہی نہ ہوں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل کی نظروں کو اندھا کر دیا ہے اسی لئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۲، ۲/۳۱۷، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۴۲، ص۴۷۴، ملتقطاً۔