ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرمادو کہ میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے اور تم میرے عمل سے الگ ہو اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔
{ وَ اِنۡ کَذَّبُوۡکَ:اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلانے پر قائم رہے اور ان کے راہِ راست پر آنے اور حق و ہدایت قبول کرنے کی امید مُنقطع ہوجائے توتم ان سے فرما دو کہ میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے اور ہم میں سے کسی کے عمل پر دوسرے کی پکڑنہ ہوگی بلکہ جو پکڑا جائے گا خود اپنے عمل کی وجہ سے پکڑا جائے گا اور تم میرے عمل سے الگ ہو اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔ یہ فرمانا بطور زَجر کے ہے کہ تم نصیحت نہیں مانتے اور ہدایت قبول نہیں کرتے تو اس کا وبال خود تم پر ہوگا کسی دوسرے کا اس سے نقصان نہیں۔(1)
نیکی کی دعوت دینے والے کو نصیحت:
اس آیت ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو نیکی کی دعوت دیں تو اسے دعوت دے کر اپنے آپ کو بریٔ الذمہ سمجھیں ، یہ نہیں کہ بس سامنے والے کو سیدھا کرکے ہی چھوڑنا ہے اگرچہ وہ پہلے سے زیادہ بگڑ جائے۔
وَمِنْہُمۡ مَّنۡ یَّسْتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْکَانُوۡا لَایَعْقِلُوۡنَ ﴿۴۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ان میں کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے؟ اگرچہ وہ سمجھتے نہ ہوں۔
{ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ یَّسْتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ:اور ان میں کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔} یعنی ان مشرکین میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو اپنے ظاہری کانوں کے ساتھ سننے کیلئے جھکتے ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۱، ۲/۳۱۷، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۴۷۴، ملتقطاً۔