بِالْمُفْسِدِیۡنَ ﴿٪۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ا ن میں کوئی اس پر ایمان لاتا ہے اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا اور تمہارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان میں کوئی تواس پر ایمان لاتا ہے اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا اور تمہارا رب فسادیوں کو خوب جانتا ہے۔
{ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یُّؤْمِنُ بِہٖ:اور ان میں کوئی تواس پرایمان لاتا ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، قریش میں سے بعض وہ لوگ ہیں جو اس قرآن پر عنقریب ایمان لے آئیں گے اور بعض وہ ہیں جو اس قرآن پر کبھی بھی نہ ایمان لائیں گے ، نہ کبھی اس کا اقرار کریں گے اور آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ان جھٹلانے والوں کو خوب جانتا ہے اور عنقریب انہیں اس کے عذاب کا سامنا ہو گا۔ (1)
کفارِ مکہ کے ایمان لانے سے متعلق غیبی خبر:
اس آیت میں یہ غیبی خبر ہے کہ موجودہ مکہ والے نہ تو سار ے ایمان لائیں گے اورنہ سارے ایمان سے محروم رہیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بعض لوگ ایمان لے آئے اور بعض ایمان سے محروم رہے۔
وَ اِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ لِّیۡ عَمَلِیۡ وَ لَکُمْ عَمَلُکُمْ ۚ اَنۡتُمْ بَرِیۡٓــُٔوۡنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۴۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو فرمادو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمہارے لیے تمہاری کرنی تمہیں میرے کام سے علاقہ نہیں اور مجھے تمہارے کام سے تعلق نہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، یونس، تحت الآیۃ: ۴۰، ۶/۵۶۳۔