مقابلے میں اس کی حیثیت ناچیز ذرے سے بھی کم ثابت ہوئی۔
بَلْ کَذَّبُوۡا بِمَا لَمْ یُحِیۡطُوۡا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاۡتِہِمْ تَاۡوِیۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ فَانۡظُرْکَیۡفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ اسے جھٹلایا جس کے علم پر قابو نہ پایا اور ابھی انہوں نے اس کا انجام نہیں دیکھا ہے ایسے ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا تو دیکھو ظالموں کا انجام کیسا ہوا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ انہوں نے اس کو جھٹلایاجس کے علم کا وہ احاطہ نہ کرسکے اور ان کے پاس اس کاانجام نہیں آیا۔ ایسے ہی ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھاتو دیکھو ظالموں کا کیسا انجام ہوا؟
{ بَلْ کَذَّبُوۡا بِمَا لَمْ یُحِیۡطُوۡا بِعِلْمِہٖ:بلکہ انہوں نے اس کو جھٹلایا جس کے علم کا وہ اِحاطہ نہ کرسکے۔}یعنی قرآنِ پاک کو سمجھنے اور جاننے کے بغیر انہوں نے اس کی تکذیب کی اور یہ انتہائی جہالت ہے کہ کسی شئے کو جانے بغیر اس کا انکار کیا جائے اور قرآنِ کریم کا ایسے عُلوم پر مشتمل ہونا جن کا علم و خِرَد کے دعوے دار احاطہ نہ کرسکیں اس کتاب کی عظمت و جلالت ظاہر کرتا ہے تو ایسی اعلیٰ علوم والی کتاب کو ماننا چاہئے تھا نہ کہ اس کا انکار کرنا۔ (1)
{ وَلَمَّا یَاۡتِہِمْ تَاۡوِیۡلُہٗ:اور ان کے پاس اس کاانجام نہیں آیا۔} یعنی جس عذاب کی قرآنِ پاک میں وعیدیں مذکور ہیں وہ انہوں نے نہیں دیکھا اور جس طرح انہوں نے قرآنِ مجید کو جھٹلایا ایسے ہی ان سے پہلے لوگوں نے بھی عناد کی وجہ سے اپنے رسولوں کے معجزات اور آیات دیکھ کر نظر وتَدَبُّر سے کام لئے بغیر انہیں جھٹلایا تھا تو تم دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا اور پہلی امتیں اپنے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلا کر کیسے کیسے عذابوں میں مبتلا ہوئیں ، اس لئے اے سیّدُ الانبیاء ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ،آپ کی تکذیب کرنے والوں کو بھی ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ بھی میرے عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں۔(2)
وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یُّؤْمِنُ بِہٖ وَ مِنْہُمۡ مَّنۡ لَّایُؤْمِنُ بِہٖ ؕ وَرَبُّکَ اَعْلَمُ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابو سعود، یونس، تحت الآیۃ: ۳۹، ۲/۴۹۶، ملخصاً۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۹، ۲/۳۱۶، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۴۷۴، ملتقطاً۔