فرمایا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ قرآن لوحِ محفوظ کی تفصیل ہے، لوحِ محفوظ میں مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ یعنی جو ہو چکا اور جو آئندہ ہوگا اور دنیا و آخرت میں جو ہونے والا ہے سب کچھ لکھا ہوا ہے( اور جب قرآن میں لوحِ محفوظ کی پوری تفصیل ہے) تو جسے قرآن کے اَسرار میں سے کوئی چیز عطا ہوئی اسے لوحِ محفوظ پر لکھا ہوا جاننے کی حاجت نہیں بلکہ وہ جو چاہے قرآن ہی سے معلوم کر لیتا ہے۔ (1)
اَمْ یَقُوۡلُوۡنَ افْتَرٰىہُ ؕ قُلْ فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَ ادْعُوۡا مَنِ اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے بنالیا ہے تم فرماؤ تو اس جیسی کوئی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے اسے خود ہی بنالیا ہے ؟ تم فرماؤ: تو تم (بھی) اس جیسی کوئی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا جو تمہیں مل سکیں سب کو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو۔
{ اَمْ یَقُوۡلُوۡنَ:کیا وہ یہ کہتے ہیں۔} یہاں کافروں کی اسی بات کا جواب دیا گیا ہے کہ کیا کفار یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے قرآن خود ہی بنالیا ہے اور یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام نہیں ؟ا ے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم ان سے فرما دو کہ اگر تمہارا یہی خیال ہے تو تم بھی عربی ہو، فصاحت و بلاغت کے دعویدار ہو، دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے کلام کے مقابل کلام بنانے کو تم ناممکن سمجھتے ہو، لہٰذا اگر تمہارے گمان میں یہ انسانی کلام ہیتو تم بھی اس جیسی کوئی ایک سورت لے آؤ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا جو تمہیں مل سکیں سب کو بلا لاؤ اور ان سے مدد یں لو اور سب مل کر قرآن جیسی ایک سورت تو بنا کر دکھاؤ۔ (2) قرآنِ مجید کا یہ چیلنج چودہ سوسال سے زائد عرصے سے چلا آرہا ہے لیکن آج تک کوئی کافر اس کا جواب نہیں دے سکا اور اگر کسی نے جواب دینے کی کوشش بھی کی ہے تو قرآنِ کریم کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳/۸۷۰۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۸، ۲/۳۱۶، ملخصاً۔