اس کے نزدیک یہ گمان نہیں بلکہ یقین ہے جو کہ واقع کے مطابق ہے۔ (1)
وَمَا کَانَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنۡ یُّفْتَرٰی مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلٰکِنۡ تَصْدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَتَفْصِیۡلَ الْکِتٰبِ لَارَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۟۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ کوئی اپنی طرف سے بنالے بے اللہ کے اتارے ہاں وہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے اور لوح میں جو کچھ لکھا ہے سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں پروردگارِ عالم کی طرف سے ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اللہ کے نازل کئے بغیر کوئی اسے اپنی طرف سے بنالے ، ہاں یہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق ہے اور لوحِ محفوظ کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، یہ ربُّ العالَمین کی طرف سے ہے۔
{ وَمَا کَانَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ:اور اس قرآن کی یہ شان نہیں۔} کفارِ مکہ نے یہ وہم کیا تھا کہ قرآنِ کریم نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے خود بنالیا ہے اس آیت میں ان کا یہ وہم دور فرمایا گیا ہے ۔چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نازل کئے بغیر کوئی اسے اپنی طرف سے بنالے، کیونکہ قرآن فصاحت و بلاغت اور علوم و اَسرار کے جس مرتبے پر ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی کے شایانِ شان نہیں۔یہ قرآن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے وحی ہے جسے اس نے اپنے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نازل کیا ہے، یہ جھوٹ اور اِفتراء سے مُنزہ ہے، اس کی مثال بنانے سے ساری مخلوق عاجز ہے ۔ ہاں قرآن تَورات اور انجیل وغیرہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جنہیں قرآن سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل فرمایا اور قرآن میں لوحِ محفوظ میں لکھے ہوئے حلال و حرام اور فرائض و اَحکام کی تفصیل ہے اوریہ بات قطعی و یقینی ہے کہ قرآن اللہ ربُّ العلمین عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے، اسے کسی نے اپنی طرف سے نہیں بنایا اور کوئی فردِ بشر اس جیسا کلام پیش ہی نہیں کرسکتا۔ (2)
{وَتَفْصِیۡلَ الْکِتٰبِ:اور لوحِ محفوظ کی تفصیل ہے۔} اس مقام پر علامہ صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بڑا پیارا کلا م
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳/۸۶۹۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۷، ۲/۳۱۵-۳۱۶۔