وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُہُمْ اِلَّا ظَنًّا ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَایُغْنِیۡ مِنَ الْحَقِّ شَیْـًٔا ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کی اکثریت تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے ۔بیشک گمان حق کاکوئی فائدہ نہیں دیتا۔ بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔
{ وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُہُمْ اِلَّا ظَنًّا:اور ان کی اکثریت تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے ۔} یعنی ان مشرکین کی اکثریت بتوں کو معبود اور انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اپنا شفیع ماننے میں تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے جس کی ان کے پاس نہ تو کوئی دلیل ہے اورنہ اس کے صحیح ہونے کا یقین ہے بلکہ یہ صرف شک میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ بھی بت پرستی کرتے تھے اور انہوں نے کچھ سمجھ کر ہی بت برستی کی ہوگی۔ (1)
آیت میں ’’اکثر ‘‘فرمایا گیا ، اس سے معلوم ہوا کہ بعض بت پرست وہ بھی تھے جو جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال سے مُتَِّصف ہے لیکن وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے کفر کرتے تھے۔ (2)
{ اِنَّ الظَّنَّ لَایُغْنِیۡ مِنَ الْحَقِّ شَیْـًٔا:بیشک گمان حق کا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔} اس آیت میں ظن سے مراد وہ گمان ہے جو خلافِ تحقیق ہو، اس میں شک اور وہم بھی داخل ہیں اور یہ کلام کفار کے بارے میں ہے جنہوں نے کفر اِختیار کرنے میں اپنے آباؤ اَجداد کی پیروی اور تقلید کی۔ اس تقلید پر دنیا و آخرت میں ان کا کوئی عذر مقبول نہیں البتہ خالص مومن جس کا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل قائم کرنے سے عاجز ہے ، وہ اگر کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل قائم کر تا ہے تو وہ اس آیت کا مِصداق نہیں بلکہ وہ یقینی طور پر مومن ہے کیونکہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۶، ۲/۳۱۵، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۴۷۳، ملتقطاً۔
2…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳/۸۶۹۔