Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
316 - 576
 الۡاَمْرَ ؕ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللہُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۳۱﴾ فَذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ فَاَنّٰی تُصْرَفُوۡنَ ﴿۳۲﴾
 ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندے سے اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے۔تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی پھر کہاں پھرے جاتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: آسمان اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے؟یاکان اور آنکھوں کا مالک کون ہے؟ اور زندہ کو مردے سے اور مردے کو زندہ سے کون نکالتا ہے ؟ اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ تو اب کہیں گے : ’’ اللہ‘‘ ۔ تو تم فرماؤ تو تم ڈرتے کیوں نہیں ؟تو یہ اللہ ہے جو تمہارا سچا رب ہے ۔پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے؟ پھر تم کہاں پھیرے جاتے ہو؟
{ قُلْ:تم فرماؤ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکوں کے مذہب کے باطل ہونے اور اسلام کے حق ہونے کو واضح فرما رہا ہے،چنانچہ اس آیت میں بیان فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان مشرکوں سے فرما دیں کہ آسمان سے بارش برسا کر اور زمین سے سبزہ اُگا کر  تمہیں کون روزی دیتا ہے؟ تمہیں یہ حواس کس نے دئیے ہیں جن کے ذریعے تم سنتے اور دیکھتے ہو،آفات کی کثرت کے باوجود کان اور آنکھ کو لمبے عرصے تک کون محفوظ رکھتا ہے حالانکہ یہ اتنے نازک ہیں کہ ذرا سی چیز انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے اور زندہ کو مردہ سے جیسے انسان کونطفہ سے، پرندے کو انڈے سے کون نکالتا ہے اور یونہی مردہ کو زندہ سے جیسے نطفہ کو انسان سے اور انڈے کو پرندے سے کون نکالتا ہے؟ اور ساری کائنات کے تمام کاموں کی تدبیر کون کرتا ہے؟ آپ کے سوالات سن کر وہ کہیں گے کہ بے شک ان چیزوں پر قدرت رکھنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے ۔ جب وہ لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قدرتِ کاملہ کا اِعتراف کر لیں تواے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم ان سے فرماؤ : جب تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہو