نہیں تھے۔تو ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ کافی ہے ۔ بیشک ہم تمہاری عبادت سے بے خبر تھے۔ وہاں ہر آدمی اپنے سابقہ اعمال کو جانچ لے گا اور انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا جو ان کا سچا مولیٰ ہے اور ان کے سارے گھڑے ہوئے (شریک) ان سے غائب ہوجائیں گے۔
{ وَ یَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیۡعًا:اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کواٹھائے گا اور تمام مخلوق کو حساب کی جگہ میں اکٹھا فرمائے گا، پھر مشرکوں سے فرمائے گا کہ تم اور تمہارے شریک یعنی وہ بت جن کو تم پوجتے تھے اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ یوں اللہ تعالیٰ مشرکوں کو مسلمانوں سے جدا کر دے گا اور جب مشرکوں سے سوال جواب ہوگا تو اس وقت ایک ساعت ایسی شدت کی آئے گی کہ بت اپنے پجاریوں کی پوجا کا انکار کردیں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم نہ سنتے تھے، نہ دیکھتے تھے، نہ جانتے تھے، نہ سمجھتے تھے کہ تم ہمیں پوجتے ہو۔ اس پر بت پرست کہیں گے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ہم تمہیں کو پوجتے تھے، تو بت کہیں گے: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم ہمیں پوجتے تھے یا نہیں ہم بہرحال تمہاری عبادت سے بے خبر تھے۔ (1)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بتوں کو قوتِ گویائی دے گا اور وہ اپنے پجاریوں کی مخالفت کریں گے۔
{ ہُنَالِکَ تَبْلُوۡا کُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ:وہاں ہر آدمی اپنے سابقہ اعمال کو جانچ لے گا۔} یعنی اس مَوقف میں سب کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے پہلے جو عمل کئے تھے وہ کیسے تھے اچھے یا برے ،مُضِر یا مفید، مقبول یا مردود اور مشرکوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹایا جائے گا جو اُن کارب ہے اور اپنی رَبوبیت میں سچا ہے اور مشرک جن بتوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہراتے تھے وہ ان سے غائب ہو جائیں گے یا جو جھوٹی باتیں مثلاً بتوں کاان کی شفاعت کرنا گھڑتے تھے وہ سب باطل اور بے حقیقت ثابت ہوں گی۔ (2)
قُلْ مَنۡ یَّرْزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرْضِ اَمَّنۡ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَ الۡاَبْصٰرَ وَ مَنۡ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنۡ یُّدَبِّرُ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳/۸۶۶-۸۶۷۔
2…مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۴۷۱-۴۷۲۔