Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
317 - 576
تو بتوں کو عبادت میں اس کا شریک ٹھہرانے سے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرتے کیوں نہیں حالانکہ بت نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ان اُمور میں سے کسی پر کوئی قدرت رکھتے ہیں۔ (1)بلکہ الٹا ان کی عبادت تمہارا بیڑہ غرق کردے گی کہ شرک کے مُرتکب ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے جہنم میں جاؤ گے۔ 
 { فَذٰلِکُمُ اللہُ:تو یہ اللہ ہے۔} یعنی جو اِن چیزوں کوسر انجام دیتاہے اور آسمان وزمین، زندگی وموت سب کا مالک ہے اور رزق و عطا پر قدرت رکھتا ہے وہی اللہ عَزَّوَجَلَّتمہارا سچا رب ہے، وہی عبادت کا مُستحق ہے نہ کہ یہ ناکارہ، خود ساختہ، بناوٹی بت اور جب ایسے واضح اور قطعی دلائل سے ثابت ہوگیا کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ عَزَّوَجَلَّہے تو اس کے ماسوا سب معبود باطلِ مَحض ہیں اور جب تم نے اس کی قدرت کو پہچان لیا اور اس کی کارسازی کا اِعتراف کرلیا توپھر تم حق قبول کرنے سے کیوں اِعراض کررہے ہو؟ (2)
کَذٰلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡۤا اَنَّہُمْ لَایُؤْمِنُوۡنَ ﴿۳۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: یونہی ثابت ہوچکی ہے تیرے رب کی بات فاسقوں پر تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یونہی نافرمانوں پر تیرے رب کے یہ کلمات ثابت ہوچکے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
{ کَذٰلِکَ حَقَّتْ:یونہی ثابت ہوچکے۔} یعنی جس طرح یہ مشرکین حق سے گمراہی کی طرف پھیر دئیے گئے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے علمِ اَزلی میں اُس کا جو حکم اور قضا تھی وہ ان لوگوں پر ثابت ہو چکی جنہوں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی بجائے اس کی نافرمانی کی اور اس سے کفر کیا۔یہ لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت کی تصدیق کریں گے نہ اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تصدیق کریں گے ۔ (3)
	یاد رہے کہ اس آیت میں رب کی بات سے مرادتقدیر الٰہی ہے یعنی تقدیرمیں یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے یا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان’’ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ ‘‘(4) یعنی ہم ان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲/۳۱۴، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۴۷۲، ملتقطاً ۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۲، ۲/۳۱۴۔
3…طبری، یونس، تحت الآیۃ: ۳۳، ۶/۵۵۹۔		4…اعراف:۱۸۔