Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
23 - 576
 ہشام کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھا، ابلیس ہاتھ چھڑا کر اپنے گروہ کے ساتھ بھاگا۔ حارث پکارتا رہ گیا سراقہ !سراقہ! تم نے تو ہماری ضمانت لی تھی اب کہا ں جاتے ہو ؟ابلیس کہنے لگا : بیشک میں تم سے بیزار ہوں اور امن کی جو ذمہ داری لی تھی اس سے سبک دوش ہوتا ہوں۔ اس پر حار ث بن ہشام نے کہا کہ ہم تیرے بھروسے پر آئے تھے کیا تو اس حالت میں ہمیں رسوا کرے گا؟ کہنے لگا: میں وہ دیکھ رہاہوں جو تم نہیں دیکھ رہے،بیشک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں کہیں وہ مجھے ہلاک نہ کردے۔ جب کفار کو ہزیمت ہوئی اور وہ شکست کھا کر مکہ مکرمہ پہنچے تو انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ ہماری شکست و ہزیمت کی وجہ سراقہ بنا ہے۔ سراقہ کو جب یہ خبر پہنچی تو اسے بہت حیرت ہوئی اور اس نے کہا :یہ لوگ کیا کہتے ہیں۔نہ مجھے ان کے آنے کی خبر ، نہ جانے کی ،تو قریش نے کہا :’’ تو فلاں فلاں روز ہمارے پاس آیا تھا۔ اس نے قسم کھائی کہ یہ غلط ہے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ شیطان تھا۔ (1)
اِذْ یَقُوۡلُ الْمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ غَرَّ ہٰۤؤُلَآءِ دِیۡنُہُمْ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَاِنَّ اللہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۹﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: جب کہتے تھے منافق اور وہ جن کے دلوں میں ا ٓزار ہے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور جو اللہ پر توکل کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
{ اِذْ یَقُوۡلُ الْمُنٰفِقُوۡنَ:جب منافق کہنے لگے۔} منافقین سے مراد اوس اور خزرج قبیلے کے چند افراد ہیں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے سے مراد مکہ مکرمہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کلمۂ اسلام تو پڑھ لیا تھا مگر ابھی تک ان کے دلوں میں شک وتَرَدُّد باقی تھا۔ جب کفارِ قریش سید ِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے جنگ کے لئے نکلے تو یہ بھی ان کے ساتھ بدر میں پہنچے۔ بدر میں جب انہوں نے مسلمانوں کی تعداد تھوڑی دیکھی تو ان کا شک مزید بڑھا اور وہ مرتد ہوگئے اور یہ کہنے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۸، ۲/۲۰۱-۲۰۲۔