Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
24 - 576
لگے کہ مسلمان اتنی کم تعداد کے باوجود اپنے سے تین گنا بڑے لشکر سے جنگ کرنے لگے ہیں ، انہیں ان کے دین اسلام نے دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور آخرت میں ثواب کی امید انہیں اپنی جانیں قربان کرنے پر ابھار رہی ہے۔ یہ تمام لوگ بدر میں مارے گئے تھے۔ (1)
{ وَمَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ:اور جو اللہ پر توکل کرے۔} ارشاد فرمایا کہ  جو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کرے  اور اپنا کام اس کے سپرد کردے اور اس کے فضل و احسان پر مطمئن ہو تو بیشک اللہ تعالیٰ اس کا حافظ و ناصر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غالب ہے اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ حکمت والا ہے،وہ اپنے دشمنوں کو عذاب میں مبتلا کرتا اور اپنے اولیاء کو رحمت و ثواب عطا فرماتا ہے۔ (2)
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے توکل کی تعریف :
	اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی تعریف فرمائی ہے کہ انہوں نے اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دئیے اور اس کی قضا پر راضی ہو گئے تا کہ دشمنوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ ان کی حمایت فرمائے اور اس میں دیگر مسلمانوں کے لئے بھی یہ تعلیم ہے کہ وہ بھی اپنے سب معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں اور اس کی قضا و تقدیر پر ہر دم راضی رہیں۔
وَلَوْ تَرٰۤی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیۡنَ کَفَرُوا ۙ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمْ وَ اَدْبٰرَہُمْ ۚ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الْحَرِیۡقِ ﴿۵۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور کبھی تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مار رہے ہیں ان کے منہ پر او ر ان کی پیٹھ پر اور چکھو آ گ کا عذاب۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر آپ دیکھتے جب فرشتے کافروں کی ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے جان نکالتے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۹، ۵/۴۹۳، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۹، ۲/۲۰۰، ملتقطاً۔
2…خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۹، ۲/۲۰۰۔