Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
22 - 576
وَقَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکُمْ اِنِّیۡۤ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ ؕ وَاللہُ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ ﴿۴۸﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جبکہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے الٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کا عذاب سخت ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (یاد کرو) جب شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے اور شیطان نے کہا : آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور بیشک میں تمہارا مدد گار ہوں پھر جب دونوں لشکر آ منے سامنے ہوئے تو شیطان الٹے پاؤں بھاگا اور کہنے لگا: بیشک میں تم سے بیزار ہوں۔ میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ۔بیشک میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
{ وَ اِذْ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعْمٰلَہُمْ:اور (یاد کرو) جب شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے۔} اس آیت میں بیان کئے گئے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان نے کفار کی نگاہ میں ان کے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عداوت اور مسلمانوں کی مخالفت میں جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس پر ان کی تعریفیں کیں اور انہیں خبیث اعمال پر قائم رہنے کی رغبت دلائی اور جب قریش نے بدر میں جانے پر اتفاق کرلیا تو انہیں یاد آیا کہ ان کے اور قبیلہ بنی بکر کے درمیان دشمنی ہے، ممکن تھا کہ وہ یہ خیال کرکے واپسی کا ارادہ کرتے اور یہ شیطان کو منظور نہ تھا، اس لئے اس نے یہ فریب کیا کہ وہ بنی کنانہ کے سردار سراقہ بن مالک کی صورت میں نمودار ہوا اور ایک لشکر اور ایک جھنڈا ساتھ لے کرمشرکین سے آملا اور ان سے کہنے لگا کہ میں تمہارا ذمہ دار ہوں آج تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں جب مسلمانوں اور کافروں کے دونوں لشکر صف آراء ہوئے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ایک مشت خاک مشرکین کے منہ پر ماری تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ابلیس لعین کی طرف بڑھے جوسراقہ کی شکل میں حارث بن