کرنے اور جنگ آزما ہونے کے لائق بھی خیال نہیں کرتا تھا ۔ مسلمانوں کو مشرکین تھوڑے دکھانے میں حکمت یہ تھی کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے خواب کی صداقت ظاہر ہو جائے، مسلمانوں کے دل مضبوط ہو جائیں اورکفار پر ان کی جرأت بڑھ جائے جبکہ مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد تھوڑی دکھانے میں یہ حکمت تھی کہ مشرکین مقابلہ پر جم جائیں ، بھاگ نہ پڑیں اور یہ بات ابتداء میں تھی، مقابلہ ہونے کے بعد انہیں مسلمان بہت زیادہ نظر آنے لگے۔ (1)
نوٹ:مسلمانوں اورکافروں کا بدر کے میدان میں ایک دوسرے کو کم اور زیادہ دیکھنے کا تفصیلی ذکر سورہ آلِ عمران آیت نمبر 13 میں مذکور ہے۔
{ لِیَقْضِیَ اللہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوۡلًا:تاکہ اللہ اس کام کوپورا کرے جسے ہوکر ہی رہنا ہے۔} یعنی اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں کی نصرت اور شرک کا اِبطال اور مشرکین کی ذلت اور رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزے کا اظہار کہ جو فرمایا تھا وہ ہوا کہ قلیل جماعت بھاری لشکر پر فتح یاب ہوئی۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوۡا وَاذْکُرُوا اللہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والوجب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو توثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یادکرو تاکہ فلاح پاؤ۔
{ اِذَا لَقِیۡتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوۡا:جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کو بیان فرمایا جو ا س نے جنگِ بدر میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو عطا فرمائی تھیں اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ کے دوآداب تعلیم فرمائے ہیں۔
پہلا ادب: جنگ میں ثابت قدم رہنا۔ ابتداء ً مسلمانوں کو جنگ یاکسی بھی آزمائش کی تمنا نہیں کرنی چاہئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۴، ۲/۱۹۹-۲۰۰، تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۴، ۵/۴۸۸، ملتقطاً۔