نے اپنا یہ خواب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے بیان کیا تواس سے ان کی ہمتیں بڑھیں اور اپنے ضعف و کمزوری کا اندیشہ نہ رہا اور انہیں دشمن پر جرأت پیدا ہوئی اور دل مضبوط ہوئے۔ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا خواب حق ہوتا ہے، آپ کو کفار تھوڑے دکھائے گئے تھے اور ایسے کفار جو دنیا سے بے ایمان جائیں اور کفر ہی پر ان کا خاتمہ ہو وہ تھوڑے ہی تھے کیونکہ جو لشکر مقابلے میں آیا تھا اس میں کثیر لوگ وہ تھے جنہیں اپنی زندگی میں ایمان نصیب ہوا اور خواب میں قِلَّت کی تعبیر ضُعف سے ہے ،چنانچہ اللہتعالیٰ نے مسلمانوں کو غالب فرما کر کفار کا ضعف ظاہر کردیا۔ (1)
وَ اِذْ یُرِیۡکُمُوۡہُمْ اِذِ الْتَقَیۡتُمْ فِیۡۤ اَعْیُنِکُمْ قَلِیۡلًا وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیۡۤ اَعْیُنِہِمْ لِیَقْضِیَ اللہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوۡلًا ؕ وَ اِلَی اللہِ تُرْجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۴۴﴾ ترجمۂکنزالایمان: او ر جب لڑتے وقت تمہیں کا فر تھو ڑے کرکے دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھو ڑا کیا کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے مسلمانو! یاد کرو) جب لڑتے وقت اللہ تمہیں وہ کافر تمہاری نگاہوں میں تھوڑے کرکے دکھا رہا تھا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھوڑا کردیا تاکہ اللہ اس کام کوپورا کرے جسے ہوکر ہی رہنا ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کا رجوع ہے۔
{ وَ اِذْ یُرِیۡکُمُوۡہُمْ اِذِ الْتَقَیۡتُمْ فِیۡۤ اَعْیُنِکُمْ قَلِیۡلًا: اور (اے مسلمانو! یاد کرو) جب لڑتے وقت اللہ نے تمہیں وہ کا فر تمہاری نگاہوں میں تھوڑے کرکے دکھائے۔} بدر کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کئی طرح کے انعامات فرمائے ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار بہت تھوڑے کر کے دکھائے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ وہ کافر ہماری نگاہوں میں اتنے کم لگے کہ میں نے اپنے برابر والے ایک شخص سے کہا کہ تمہارے گمان میں کافر ستر ہوں گے اس نے کہا کہ میرے خیال میں سو ہیں حالانکہ وہ ایک ہزار تھے۔ اور کافروں کی نظروں میں مسلمانوں کو بہت تھوڑا کر کے دکھایایہاں تک کہ ابوجہل نے کہا کہ’’ انہیں رسیوں میں باندھ لو،گویا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت کو اتنا قلیل دیکھ رہا تھا کہ مقابلہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳/۷۶۸۔