Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
19 - 576
لیکن جب ان پر جنگ مُسلَّط ہو جائے تو اب ان پر لازم ہے کہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور بزدلی نہ دکھائیں۔ حضرت عبد اللہبن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تم دشمنوں سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّکو یاد کرو۔ (1) اور جنگ میں ثابت قدم رہنے کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابو ایوب انصاری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے دشمن کے مقابلے میں صبر کیا یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا گیا یا اس نے دشمنوں کو قتل کر دیا تو وہ فتنۂ قبر میں مبتلا نہ ہو گا۔ (2) 
	دوسرا ادب: لڑائی کے دوران کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔ دورانِ جنگ دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور زبان پہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر ہونا چاہئے ۔ حضرت ابو مجلز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ دشمن سے مقابلہ کرتے تو یوں دعا مانگتے ’’اے اللہ! تومیری طاقت اور مددگار ہے، میں تیری مدد سے پھرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا اور تیری مدد سے قِتال کرتا ہوں۔ (3) 
	حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو انتہائی شدید حالت میں بھی ذکر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس میں یہ تنبیہ ہے کہ ہر حال میں انسان کا دل اور اس کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے۔ اگر ایک شخص مغرب سے مشرق تک اپنے اَموال کی سخاوت کرے اور دوسرا شخص مشرق سے مغرب تک تلوار سے جہاد کرتا جائے تب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّکا ذکر کرنے والے کا درجہ اور اجر اِن سے زیادہ ہو گا۔ (4)
	یاد رہے کہ دورانِ جنگ زیادہ تر ذکر زبان سے ہوگا کہ دل عام طور پر سامنے والے سے مقابلے میں مشغول ہوتا ہے۔ 
وَاَطِیۡعُوا اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَلَا تَنٰزَعُوۡا فَتَفْشَلُوۡا وَتَذْہَبَ رِیۡحُکُمْ وَاصْبِرُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مصنف عبد الرزاق، کتاب الجہاد، باب کیف یصنع بالذی یغلّ، ۵/۱۷۰، الحدیث: ۹۵۸۱۔
2…معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ موسیٰ، ۶/۱۲۹، الحدیث: ۸۲۴۳۔
3…مصنف عبد الرزاق، کتاب الجہاد، باب کیف یصنع بالذی یغلّ، ۵/۱۶۹، الحدیث: ۹۵۸۰۔
4…تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۵، ۵/۴۸۹۔