کے مخالف تھے۔ جب دونوں لشکروں کی آپس میں جنگ ہوئی تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے نقشہ ہی بدل دیا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو بہت بڑی فتح نصیب ہوئی اور کفار بد ترین شکست سے دوچار ہوئے۔ مسلمانوں کی فتح اور کفار کی شکست تاجدارِ انبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا عظیم معجزہ اور نبوت کے دعویٰ کی صداقت پر مضبوط دلیل ہے کیونکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے مسلمانوں کو فتح کی بشارت دی اور فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ نیز مسلمانوں کو نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فتح کی بشارت اس وقت دی تھی کہ جب ظاہری اور مادی طور پر مسلمانوں کی فتح کے کوئی آثار نہ تھے ،یوں بدر کی فتح سے نبیِّ آخر الزّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کی سچائی ظاہر ہو گئی اور اسلام کی صداقت پر مضبوط دلیل قائم ہو گئی ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اب جو کفر اختیار کر کے ہلاکت میں پڑے گا تو دلیل قائم ہونے اور حجت پوری ہوجانے کے بعد ہلاکت میں پڑے گا اور جو اسلام قبول کر کے زندگی حاصل کرے گا تو وہ دلیل قائم ہونے کے بعد کرے گا۔ (1)
اِذْ یُرِیۡکَہُمُ اللہُ فِیۡ مَنَامِکَ قَلِیۡلًا ؕ وَلَوْ اَرٰىکَہُمْ کَثِیۡرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنٰزَعْتُمْ فِی الۡاَمْرِ وَلٰکِنَّ اللہَ سَلَّمَ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: جب کہ اے محبوب اللہ تمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھو ڑا دکھاتا تھا اور اے مسلمانو اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے مگراللہ نے بچا لیا بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے حبیب! یاد کرو) جب اللہ نے یہ کافر تمہاری خواب میں تمہیں تھوڑے کر کے دکھائے اور اگر وہ ان کو زیادہ کرکے تمہیں دکھاتا تو اے مسلمانو! تم ضرور بزدل ہوجاتے اور تم ضرور معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے سلامت رکھا، بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے۔
{ اِذْ یُرِیۡکَہُمُ اللہُ فِیۡ مَنَامِکَ قَلِیۡلًا:(اے حبیب! یاد کرو) جب اللہ نے یہ کافر تمہاری خواب میں تمہیں تھوڑے کر کے دکھائے۔} یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کفار کی تعداد تھوڑی دکھائی گئی اور آپ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۲، ۵/۴۸۷۔