Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
141 - 576
ہی میں پڑے اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان میں کوئی آپ سے یوں کہتا ہے کہ مجھے رخصت دیدیں اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیں۔ سن لو! یہ فتنے ہی میں پڑے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ 
{ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ:اور ان میں کوئی یوں کہتا ہے۔} شانِ نزول: یہ آیت جد بن قیس منافق کے بارے میں نازل ہوئی، جب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے غزوئہ تبوک کے لئے تیاری فرمائی تو جد بن قیس نے کہا :’’یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بڑا شیدائی ہوں ، مجھے اندیشہ ہے کہ میں رومی عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہ ہوسکے گا اس لئے آپ مجھے یہیں ٹھہر جانے کی اجازت دیجئے اور ان عورتوں کے فتنہ میں نہ ڈالئے ، میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی اپنے مال سے مدد کروں گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ یہ اس کا حیلہ تھا اور اس میں سوائے نفاق کے اور کوئی سبب نہ تھا۔ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اسے اجازت دے دی اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (1)
{ اَلَا فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوۡا:سن لو! یہ فتنے ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔} اس کا معنی یہ ہے کہ منافقین فتنے میں پڑ جانے کے اندیشے کی وجہ سے جہاد سے اعراض کر رہے ہیں جیسا کہ اوپر ایک منافق کا قول گزرا ہے تو فرمایا گیا کہ یہ تواِس موجودہ وقت میں بھی فتنے میں ہی مبتلا ہیں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ کفر کرنا اور تکلیف قبول کرنے سے اِعراض کرنا تو سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اور اس کے ساتھ اس فتنے میں بھی مبتلا ہیں کہ منافقین مسلمانوں کی مخالفت پر قائم ہیں۔ (2)
اِنۡ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ۚ وَ اِنۡ تُصِبْکَ مُصِیۡبَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنۡ قَبْلُ وَیَتَوَلَّوۡا وَّہُمْ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۰﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۴۹، ۲/۲۴۸۔
2…تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۴۹، ۶/۶۵۔