اَمْرُ اللہِ وَہُمْ کٰرہُوۡنَ ﴿۴۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ چا ہا تھا اور اے محبوب تمہارے لیے تدبیریں الٹی پلٹیں یہاں تک کہ حق آیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا اور انہیں ناگوار تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ و فساد چاہا تھا اور اے حبیب! انہوں نے پہلے بھی تمہارے لئے الٹی تدبیریں کی ہیں حتّٰی کہ حق آگیا اور اللہ کا دین غالب ہوگیا اگرچہ یہ ناپسند کرنے والے تھے۔
{ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنۡ قَبْلُ:بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ و فساد چاہا تھا۔} منافقین کے جنگ میں شریک نہ ہونے پراہلِ ایمان اور اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، یہ منافقین غزوۂ تبوک سے پہلے ہی آپ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو دین سے روکنے، کفر کی طرف لوٹا دینے اور لوگوں کوآپ کا مخالف بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں جیسا کہ عبداللہ بن اُبی سلول منافق نے جنگِ اُحد کے دن کیا کہ مسلمانوں میں اِنتشار پھیلانے کیلئے اپنے گروہ کو لے کر واپس ہوگیا۔ اور اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، انہوں نے پہلے بھی آپ کے لئے الٹی تدبیریں کی ہیں اور انہوں نے آپ کا کام بگاڑنے اور دین میں فساد ڈالنے کے لئے بہت حیلے سازیاں کی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی طرف سے تائید و نصرت آگئی اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہوگیا اگرچہ یہ لوگ اسے ناپسند کرنے والے تھے۔ (1)
وَمِنْہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ ائْذَنۡ لِّیۡ وَلَا تَفْتِنِّیۡ ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوۡا ؕ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیۡطَۃٌۢ بِالْکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالئے سن لو وہ فتنہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۴۸، ۲/۲۴۷-۲۴۸۔