ترجمۂکنزالایمان: اگر تمہیں بھلائی پہونچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہونچے تو کہیں ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اگر تمہیں بھلائی پہنچتی ہے تو انہیں برالگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں : ہم نے پہلے ہی اپنا احتیاطی معاملہ اختیار کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں۔
{ اِنۡ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ:اگر تمہیں بھلائی پہنچتی ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اگر تمہیں بھلائی پہنچے اور تم دشمن پر فتح یاب ہوجاؤ اور غنیمت تمہارے ہاتھ آئے تو منافقین غمزدہ ہو جاتے ہیں اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے اور کسی طرح کی شدت کا سامنا ہو تو منافقین یہ کہتے ہیں کہ ہم نے چالاکی کے ذریعے جہاد میں نہ جاکر اس مصیبت سے خود کو بچالیا تو گویا ہم نے پہلے ہی اپنا احتیاطی معاملہ اختیار کرلیا تھا پھر مزید ا س بات پر وہ خوشیاں مناتے ہیں کہ ہم جہاد کی مشقت و مصیبت سے محفوظ رہے۔ (1)
آیت’’ اِنۡ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے اشارۃً معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی مصیبت پر خوش ہونا کافروں کا کام ہے، اسی طرح مسلمانوں کی خوشی پر غم کرنا منافقوں کی نشانی ہے۔
قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوْلٰىنَا ۚ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوۡنَ ﴿۵۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہ ہمارا مددگار ہے اور مسلمانوں کو اللہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۵۰، ۲/۲۴۸۔