جانتا ہے اور وہ تمہارے سب کام جانتا ہے۔
{ وَہُوَ اللہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرْضِ: اور وہی اللہ آسمانوں میں اور زمین میں لائقِ عبادت ہے۔}اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا ذکر کیاگیا اور اس آیت سے اللہتعالیٰ کے کامل علم کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آسمانوں اور زمینوں میں رہتا ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ ہر جگہ اس کی عبادت ہو رہی ہے اور ہر جگہ وہی معبود حقیقی ہے اور ہر جگہ اسی کی سلطنت و حکومت ہے، جیساکہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ ؕ وَ ہُوَ الْحَکِیۡمُ الْعَلِیۡمُ ﴿۸۴﴾ ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور وہی آسمان والوں کامعبود ہے اور زمین والوں کامعبود ہے اور وہی حکمت والا، علم والا ہے۔
{ یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَ جَہۡرَکُمْ:وہ تمہاری ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے۔}امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ تمام معلومات کا عالم ہے، زمین کی تہ سے لے کر آسمانوں کی بلندی تک جو کچھ جاری ہے سب کا احاطہ فرمانے والا ہے، وہ ایسا عالم ہے کہ اس کے علم سے زمین و آسمان کا کوئی ذرہ باہر نہیں جا سکتا بلکہ وہ سخت اندھیری رات میں صاف چٹان پر چلنے والی سیاہ چیونٹی کے چلنے کی آواز کو بھی جانتا ہے، وہ فضا میں ایک ذرے کی حرکت بھی جانتا ہے، وہ پوشیدہ امور سے واقف اور دلوں کے وسوسوں ،خیالات اور پوشیدہ باتوں کا علم رکھتا ہے،اس کا علم قدیم ،ازلی ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اس علم کے ساتھ موصوف رہا ہے،اس کا علم جدید نہیں اور نہ ہی وہ اس کی ذات میں آنے کی وجہ سے حاصل ہو اہے۔ (2)
وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہمْ اِلَّا کَانُوۡا عَنْہَا مُعْرِضِیۡنَ ﴿۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی انکے رب کی نشانیوں سے نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیرلیتے ہیں۔ ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی بھی نشانی نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔
{ وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنْ اٰیَۃٍ:اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی نہیں آتی۔} اس سے پہلی آیات میں مشرکین کے اس کفر کو بیان کیاگیا جو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتے تھے اور اس آیت سے مشرکین کے ا س کفر کو بیان کیا گیا ہے جو وہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ کرتے تھے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ کا کفر وسرکشی میں حال یہ ہے کہ ان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…زخرف:۸۴۔
2…احیاء العلوم، کتاب قواعد العقائد، الفصل الاول فی ترجمۃ عقیدۃ اہل السنّۃ فی کلمتی الشہادۃ۔۔۔ الخ، ۱/۱۲۶۔