Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
69 - 558
 کے پاس جب بھی قرآنِ مجید کی آیات آتی ہیں یا وہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات دیکھتے ہیں تو وہ ا س سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ (1)
فَقَدْ کَذَّبُوۡا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمْ ؕ فَسَوْفَ یَاۡتِیۡہِمْ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا تو اب انہیں خبر ہوا چاہتی ہے اس چیز کی جس پر ہنس رہے تھے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا تو عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آنے والی ہیں جس کا یہ مذاق اڑاتے تھے۔
{ فَقَدْ کَذَّبُوۡا بِالْحَقِّ: تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا۔}یہاں حق سے یا قرآنِ مجیدکی آیات مراد ہیں یاتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات کہ جب بھی قرآن کی آیتیں یا نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات کفارِ مکہ کے سامنے آتے یا حضورِ  اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ انہیں کچھ سمجھاتے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو جھٹلاتے۔ اس پر فرمایا کہ  عنقریب ان کے پاس خبریں آنے والی ہیں اس چیز کی جس کا یہ مذاق اڑاتے تھے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ  وہ کیسی عظیم الشان خبر ہے اور اس کی ہنسی بنانے کا انجام کیسا خوفناک ہے ۔
اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَہۡلَکْنَا مِنۡ قَبْلِہِمۡ مِّنۡ قَرْنٍ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الۡاَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنۡ لَّکُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیۡہِمۡ مِّدْرَارًا ۪ وَّ جَعَلْنَا الۡاَنْہٰرَ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہِمْ فَاَہۡلَکْنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمْ وَ اَنْشَاۡنَا مِنۡۢ بَعْدِہِمْ قَرْنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۶﴾
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۴، ۲/۴، ملتقطاً۔