Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
64 - 558
ہے کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد ،جیسے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت ،ا س کی صفات اور اس کی قدرت کو انسان کی اندرونی اور بیرونی شہادتوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ وحی اور رسالت کے ثبوت اور مشرکین کے شُبہات کے رد پر عقلی اور حِسی دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے ،قیامت کے دن اعمال کاحساب ہونے اور اعمال کی جزاء ملنے کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔ 
(1) …زمین میں گھوم پھر کر سابقہ لوگوں کی اجڑی بستیاں ،ویران گھر اور ان پر کئے ہوئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے آثار دیکھ کر ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
(2) …جانور ذبح کرنے اور ذبح شدہ جانور کا گوشت کھانے کے احکام بیان کئے گئے اور اپنی طرف سے حلال جانوروں کو حرام قرار دینے کا رد کیا گیا ہے ۔
(3) …والدین کے ساتھ احسان کرنے، ظاہری اور باطنی بے حیائیوں سے بچنے، تنگدستی کی وجہ سے اولاد کو قتل نہ کرنے اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(4) … حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا گیا اور آخر میں قرآن اور دین اسلام کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
سورۂ مائدہ کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ اَنعام کی اپنے سے ما قبل سورت’’ مائدہ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر87 میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ
’’ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡا ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ 
	اور سورۂ اَنعام میں یہ خبر دی گئی کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چند (حلال) چیزوں کو(اپنی طرف سے ) حرام قرار دے دیا اور یہ کہہ دیاکہ اسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، اور یہ خبر دینے سے مقصود مسلمانوں کو اس بات سے ڈرانا ہے کہ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو (اپنی طرف سے) حرام قرار دے دیا تو وہ کفار کے مشابہ ہو جائیں گے۔ (1)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تناسق الدرر، سورۃ الانعام، ص۸۵۔