Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
63 - 558
سورۃ الانعام
سورۂ اَنعام کا تعارف
مقامِ نزول:
	حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں کہ پوری سورۂ اَنعام ایک ہی رات میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی،اور انہی سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سورۂ اَنعام کی6 آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں اور باقی سورت ایک ہی مرتبہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
	اس میں 20رکوع ، 165 آیتیں ، 3100 کلمے اور 12935 حروف ہیں۔
’’اَنعام‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	 عربی میں مویشیوں کو ’’اَنعام‘‘ کہتے ہیں اور  اس سورت کا نام ’’اَنعام‘‘ اس مناسبت سے رکھا گیا کہ اس سورت کی آیت نمبر 136 اور138 میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو اپنے مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور خود ہی چند جانوروں کو اپنے لئے حلال اور چند جانوروں کو اپنے اوپر حرام سمجھنے لگے تھے۔
سورۂ اَنعام کی فضیلت:
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ سورۂ اَنعام نازل ہوئی اور اس کے ساتھ بلند آواز سے تسبیح کرتی ہوئی فرشتوں کی ایک جماعت تھی جس سے زمین و آسمان کے کنارے بھر گئے، زمین ان فرشتوں کی وجہ سے ہلنے لگی اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمْ ‘‘ کہا۔  (2)
سورۂ اَنعام کے مضامین:
	سورۂ اَنعام قرآنِ مجید میں مذکور سورتوں کی ترتیب کے لحاظ سے پہلی مکی سورت ہے اور اس کا مرکزی مضمون یہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، تفسیر سورۃ الانعام، ۲/۲۔
2…شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ذکر سورۃ الانعام، ۲/۴۷۰، الحدیث: ۲۴۳۳۔