Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
52 - 558
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا :ہم ایمان لائے اور (اے عیسیٰ!) آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
{ وَ اِذْ اَوْحَیۡتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ:اور جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی۔} حواری حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مخصوص اور مخلص حضرات کو کہا جاتا ہے۔ ان کے متعلق فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کی بات ڈال دی۔ 
’’وحی‘‘ کا ایک معنی:
	یاد رہے کہ اس آیت میں لفظ ’’وحی‘‘ کی نسبت غیرِ انبیاء کی طرف ہے اورجب وحی کی نسبت غیرِ نبی کی طرف ہو تو اس سے مراد دل میں بات ڈالنا ہوتا ہے جیسے سورۂ قصص کی آیت نمبر 7میں ہے
’’ وَاَوْحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اُمِّ مُوۡسٰۤی ‘‘ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم نے موسیٰ کی ماں کے دل میں بات ڈال دی۔ 
نیز سورۂ نحل کی آیت نمبر68میں ہے
’’ وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ ‘‘ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ 
اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔ترجمۂکنزُالعِرفان: یاد کروجب حواریوں نے کہا: اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان اُتار دے ؟ فرمایا :اللہ سے ڈرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔
{ اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوۡنَ: جب حواریوں نے کہا۔} حواریوں نے حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی کہ کیا آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رب عَزَّوَجَلَّ ہم پر آسمان سے نعمتوں سے بھرپور دسترخوان اتارے گا۔ ان کی مراد یہ تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ