Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
53 - 558
 اس بارے میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا؟ یہ مراد نہیں تھی کہ کیا آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ایسا کرسکتا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ وہ حضرات اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو  اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔ بعض مفسرین نے کہا: اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تمام اُمتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو یا یہ معنی ہیں کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو ایسے سوال نہ کرو جن سے تَرَدُّد کا شبہ گزر سکتا ہو۔ (1)
قَالُوۡا نُرِیۡدُ اَنۡ نَّاۡکُلَ مِنْہَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوۡبُنَا وَنَعْلَمَ اَنۡ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُوۡنَ عَلَیۡہَا مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۱۱۳﴾
 ترجمۂکنزالایمان: بولے ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل ٹھہریں اور ہم آنکھوں دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (حواریوں نے) کہا: ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہم آنکھوں سے دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا ہے اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں۔
{ قَالُوۡا:انہوں نے کہا۔}حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جب انہیں خدا خوفی کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا کہ ’’ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ حصولِ برکت کے لئے اس آسمانی دسترخوان سے کچھ کھائیں اور ہمارا یقین قوی ہو جائے اور جیسے ہم نے قدرتِ الٰہی کو دلیل سے جانا ہے اسی طرح مشاہدے سے بھی اس کو پختہ کرلیں یعنی علم ُالیقین سے ترقی کر کے عین ُالیقین حاصل کریں۔ حواریوں کے جواب نے واضح کردیا کہ انہوں نے قدرتِ الٰہی میں شک و شبہ کی وجہ سے سابقہ مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ اس کا مقصد کچھ اور تھا۔ حواریوں کی اِس درخواست پر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں تیس روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا جب تم ان روزوں سے فارغ ہوجاؤ گے تو اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرو گے قبول ہوگی۔ انہوں نے روزے رکھ کر دسترخوان اُترنے کی دعا کی۔ اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے غسل فرمایا ، موٹا لباس پہنا، دو رکعت نماز ادا کی اور سرِ مبارک جھکایا اور رو کر یہ دعا کی جس کا اگلی آیت میں ذکر ہے۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1… تفسیر قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳/۲۲۶، الجزء السادس، خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۱/۵۳۹، ملتقطاً۔
2…خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۱/۵۳۹۔