نے پاک روح سے تیری مدد کی تو لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں اور پکی عمرکا ہوکر اور جب میں نے تجھے سکھائی کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتی اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا اور جب تو مُردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب اللہ فرمائے گا :اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر میرا وہ احسان یاد کر، جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی ۔تو گہوارے میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے باتیں کرتا تھا اور جب میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائی اور جب تو میرے حکم سے مٹی سے پرند ے جیسی صورت بناکر اس میں پھونک مارتا تھا تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی اور تو میرے حکم سے پیدائشی نابینا اور سفید داغ کے مریض کوشفا دیتا تھااور جب تو میرے حکم سے مردوں کو زندہ کر کے نکالتااور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روک دیا۔ جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں سے کافروں نے کہا: یہ تو کھلا جادو ہے۔
{ اِذْ قَالَ اللہُ: جب اللہ فرمائے گا۔} اس آیت میں بھی قیامت کے دن کا ایک معاملہ بیان فرمایا گیا ،گویا کہ ارشاد فرمایا ’’آپ یاد کریں جس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع فرمائے گا اورجب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس طرح فرمائے گا۔ (1) یاد رہے کہ اس آیتِ مبارکہ میں جو احسانات ذکر کئے گئے ان کی مفصل تفسیر سورۂ آلِ عمران آیت نمبر 37تا49 میں گزر چکی ہے۔
وَ اِذْ اَوْحَیۡتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوۡا بِیۡ وَ بِرَسُوۡلِیۡ ۚ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَاشْہَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ بولے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۳/۲۲۴، الجزء السادس۔