ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن اللہ رسولوں کو جمع فرمائے گا پھر فرمائے گا :تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ وہ عرض کریں گے ، ہمیں کچھ علم نہیں۔ بیشک تو ہی سب غیبوں کا جاننے والاہے۔
{ یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ:جس دن اللہ رسولوں کو جمع فرمائے گا۔} یہاں سے قیامت کے دن کے کچھ معاملات کو بیان فرمایا جارہا ہے ،اس آیت کاخلاصۂ کلام یہ ہے کہ قیامت کے دن تمام انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سوال کیا جائے گا کہ جب تم نے اپنی اُمتوں کو ایمان کی دعوت دی تھی تو اُنہوں نے تمہیں کیا جواب دیا تھا ؟ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جواب دیں گے: ہمیں کچھ علم نہیں۔ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ جواب اُن کے کمالِ ادب کی شان ظاہر کرتا ہے کہ وہ علمِ الٰہی کے حضور اپنے علم کو بالکل نظر میں نہ لائیں گے اور قابلِ ذکر قرار نہ دیں گے اور معاملہ اللہ تعالیٰ کے علم و عدل کے سپرد فرمادیں گے ورنہ حقیقت میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینا جانتے ہوں گے کیونکہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی امتوں کی گواہی دیں گے۔
اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیۡسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِیۡ عَلَیۡکَ وَعَلٰی وٰلِدَتِکَ ۘ اِذْ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الْقُدُسِ ۟ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہۡدِ وَکَہۡلًا ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰىۃَ وَالۡاِنۡجِیۡلَ ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡــَٔۃِ الطَّیۡرِ بِاِذْنِیۡ فَتَنۡفُخُ فِیۡہَا فَتَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذْنِیۡ وَتُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ بِاِذْنِیۡ ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوۡتٰی بِاِذْنِیۡ ۚ وَ اِذْ کَفَفْتُ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ عَنۡکَ اِذْ جِئْتَہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْہُمْ اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۱۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ یاد کر میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی ماں پر جب میں