Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
49 - 558
جھوٹی قسم کھانے اور جھوٹی گواہی دینے کی مذمت:
	فی زمانہ لوگوں کی حالت اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ ان کے نزدیک جھوٹی قسم کھانا، جھوٹی گواہی دینا، جھوٹے مقدمات میں پھنسوا کر اپنے مسلمان بھائی کی عزت تار تار کر دینا، لوہے کی سنگین سلاخوں کے پیچھے لاچارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دینا، اپنے مسلمان بھائی کا ناحق مال ہڑپ کر جانا گویا کہ جرائم کی فہرست میں داخل ہی نہیں۔ اس دنیا کی فانی زندگی کو حرف ِآخر سمجھ بیٹھنا عقلمندی نہیں نادانی اور بیوقوفی کی انتہا ہے، انہیں چاہئے کہ اِن قرآنی آیات اور  ان احادیث کو بغور پڑھ کر عبرت حاصل کریں۔
	حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس نے جھوٹی قسم پر حلف اٹھایا تاکہ اس کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہو گا۔ (1)
	حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔ (2)
	حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اُس نے (اپنے اوپر) جہنم کو واجب کر لیا۔(3) 
یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَاذَاۤ اُجِبْتُمْ ؕ قَالُوۡا لَا عِلْمَ لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلّٰمُ الْغُیُوۡبِ ﴿۱۰۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1… بخاری، کتاب الایمان والنذور، باب عہد اللہ عزّوجل، ۴/۲۹۰، الحدیث: ۶۶۵۹۔
2…ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شہادۃ الزور، ۳/۱۲۳، الحدیث: ۲۳۷۳۔
3…معجم الکبیر، عکرمۃ عن ابن عباس، ۱۱/۱۷۲، الحدیث: ۱۱۵۴۱۔