کا حکم دے رہا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اے موسیٰ! دیدار کا مطالبہ کرنے پر اگرچہ تجھے منع کر دیا گیا لیکن میں نے تمہیں فلاں فلاں عظیم نعمتیں تو عطا فرمائی ہیں لہٰذا دیدار سے منع کرنے پر اپنا سینہ تنگ نہ کرو، تم ان نعمتوں کی طرف دیکھو جن کے ساتھ میں نے تمہیں خاص کیا کہ میں نے اپنی رسالتوں کے ساتھ تجھے لوگوں پر منتخب کرلیا اور تمہیں مجھ سے بلا واسطہ ہم کلامی کا شرف عطا ہوا جبکہ دیگر انبیاء و مرسَلینعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرشتے کے واسطے سے کلام ہوا۔(1)
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا اپنے زمانے کے لوگوں پر انتخاب ہوا:
یاد رہے کہ آیت میں جو بیان ہو ا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر منتخب کرلیا ‘‘ اس میں لوگوں سے مراد اُن کے زمانے کے لوگ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے زمانے کے لوگوں میں سب سے زیادہ عزت و مرتبے والے ، شرافت ووجاہت والے تھے کیونکہ آپ صاحبِ شریعت تھے اور آپ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب تورات بھی نازل ہوئی۔ لہٰذا اس سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور تاجدارِ رسا لت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔(2)
وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الۡاَلْوَاحِ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ ۚ فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَّاۡمُرْ قَوْمَکَ یَاۡخُذُوۡا بِاَحْسَنِہَا ؕ سَاُورِیۡکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بے حکموں کا گھر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے اس کے لیے (تورات کی) تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی (اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۴، ۲/۱۳۸۔
2…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۴، ۲/۱۳۸، صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۴، ۲/۷۰۸، ملتقطاً۔