Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
429 - 558
 فرمایا) اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں۔ عنقریب میں تمہیں نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔
{ وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الۡاَلْوَاحِ:اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی۔} حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اَلْوَاحْ‘‘ یعنی تختیوں سے مراد تورات کی تختیاں ہیں اور آیت کامعنی یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کیلئے تورات کو تختیوں میں لکھ دیا، جن تختیوں میں تورات کو لکھا گیا وہ زبر جد یا زمرد کی تھیں اور ان کی تعداد سات یا دس تھی۔ تورات عید الاضحی کے دن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عطا ہوئی۔ (1)
	نیزاس آیت میں مزید یہ چیزیں بیان ہوئی ہیں :
(1)…ہر چیز کی نصیحت، اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کو اپنے دین میں حلال حرام اور اچھی بری چیزوں سے متعلق جن احکام کی ضرورت تھی وہ سب تورات میں لکھی ہوئی تھیں۔ (2)
(2)… ہر چیز کی تفصیل، اس کا معنی یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو جتنے احکامِ شرعیہ دئیے گئے تھے تورات میں ان تمام احکام کی تفصیل لکھ دی تھی۔ (3)
 (3)… تورات کو مضبوطی سے پکڑنا۔ قوت اور مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ بڑی کوشش، چستی، ہوشیاری اور شوق سے اس میں موجود احکام پر عمل کرنے کا عزم کر کے اس کو ہاتھ میں لو۔ (4)
	نوٹ:یاد رہے کہ ا س میں خطاب اگرچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ہے لیکن اس سے مراد آپ کے ساتھ آپ کی قوم بھی ہے۔ 
(4)…تورات کی اچھی باتیں اختیار کرنے کا حکم دینا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تورات میں جو احکام مذکور ہیں ان میں جو زیادہ بہتر ہو اسے اختیار کرنے کا حکم دو کیونکہ تورات میں عزیمت اور رخصت،جائز اور مُستحب اُمور کا بھی ذکر ہے۔ عزیمت پر عمل کرنا رخصت پر عمل کے مقابلے میں بہترہے (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲/۱۳۸، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۵/۳۶۰، ملتقطاً۔
2…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۵/۳۶۰۔
3…تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۴/۲۰۳، الجزء السابع۔
4…قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۴/۲۰۳، الجزء السابع، بیضاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۳/۵۸، ملتقطاً۔
5…صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲/۷۰۹۔