عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دیکھنے کو پہاڑ کے اپنی جگہ برقرار رہنے پر مُعلَّق کیا اور پہاڑ کا اپنی جگہ پر برقرار رہنا فی نفسہ ممکن ہے اور جو ممکن پر موقوف ہوتا ہے وہ بھی ممکن ہوتا ہے ، لہٰذاثابت ہوا کہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن تھا۔ سرِ دست یہ تین دلائل عرض کئے ہیں ، ان کے علاوہ قرآن پاک کی کئی آیات اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے اور قیامت کے دن ایمان والے اس سعادت سے بہرہ مند ہوں گے ۔ صحیح بخاری میں ہے ،حضرت عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا رب عَزَّوَجَلَّ کلام فرمائے گا اس شخص کے اورا س کے رب عَزَّوَجَلَّکے درمیان کوئی ترجمان ہو گا اور نہ کوئی حجاب ہو گا جو اس کے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھنے سے مانع ہو۔ (1)
نوٹ: آخرت میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہونے سے متعلق تفصیلی دلائل سورۂ انعام کی آیت نمبر 103 کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
قَالَ یٰمُوۡسٰۤی اِنِّی اصْطَفَیۡتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیۡ وَ بِکَلٰمِیۡ ۫ۖ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیۡتُکَ وَکُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اللہ نے) فرمایا: اے موسیٰ! میں نے اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ساتھ تجھے لوگوں پر منتخب کرلیا تو جو میں نے تمہیں عطا فرمایا ہے اسے لے لو اور شکر گزاروں میں سے ہوجاؤ۔
{ قَالَ یٰمُوۡسٰۤی:فرمایا اے موسیٰ۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو دیدار کے مطالبے پر منع فرما دیا تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر کئے گئے انعامات کو گِنوا کر انہیں تسلی دیتے ہوئے شکر کرنے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔۔ الخ، ۴/۵۵۶، الحدیث: ۷۴۴۳۔