Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
422 - 558
{ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ:بیشک یہ لوگ۔} یعنی عنقریب یہ بت پرست اور ان کے بت ہمارے ہاتھوں ہلاک کئے جائیں گے جبکہ تم بت پرست نہیں بلکہ بت شکن ہو۔ اس میں غیب کی خبر ہے اور بعد میں وہی ہوا جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا تھا۔
قَالَ اَغَیۡرَ اللہِ اَبْغِیۡکُمْ اِلٰـہًا وَّ ہُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾ وَ اِذْ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمْ سُوۡٓءَ الْعَذَابِ ۚ یُقَتِّلُوۡنَ اَبْنَآءَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوۡنَ نِسَآءَکُمْ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ عَظِیۡمٌ ﴿۱۴۱﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی۔ اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بخشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے اور اس میں تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: ( موسیٰ نے) فرمایا: کیا تمہارے لئے اللہکے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں سارے جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بہت بری سزا دیتے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔
{ قَالَ اَغَیۡرَ اللہِ اَبْغِیۡکُمْ اِلٰـہًا:کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں۔} جب بنی اسرائیل نے معبود بنا کر دینے کا مطالبہ کیا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کی جہالت کو واضح کیا اور فرمایا ’’کیا میں تمہارے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں سارے جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ یعنی خدا وہ نہیں ہوتا جو تراش کر بنالیا جائے بلکہ خدا وہ ہے جس نے تمہیں فضیلت دی کیونکہ وہ فضل واحسان پر قادر ہے تو وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے فضل و احسان کا تقاضا ہے کہ اس کا شکر اور حق ادا کیا جائے نہ کہ ناشکری اور شرک کیا جائے۔