Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
421 - 558
بربادی کا ہے جس میں یہ لوگ ہیں اور جو کچھ کررہے ہیں نرا باطل ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہواجو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے۔(بنی اسرائیل نے) کہا: اے موسیٰ! ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو جیسے ان کے لئے کئی معبود ہیں۔ (موسیٰ نے) فرمایا: تم یقینا جا ہل لوگ ہو۔  بیشک یہ لوگ جس کام میں پڑے ہوئے ہیں وہ سب برباد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ سب باطل ہے۔
{ وَجٰوَزْنَا بِبَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ الْبَحْرَ:اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے نعمت کی جو ناشکریاں ہوئیں اور جن برے افعال میں وہ مبتلا ہوئے ان کا اور دیگر واقعات کا بیان شروع فرمایا اورا س سے مقصود نبیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دینا اور آپ کی امت کو نصیحت کرنا ہے کہ وہ کسی حال میں بھی اپنے نفس کے محاسبہ سے غافل نہ ہوں اور اپنے احوال میں غورو فکر کرتے رہیں۔ (1)
	 آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دسویں محرم کے دن  فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہواجو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی عبادت کرتے تھے۔ ابن جُرَیج نے کہا کہ یہ بُت گائے کی شکل کے تھے۔ یہاں سے بنی اسرائیل کے دل میں بچھڑا پوجنے کا شوق پیدا ہوا جس کا نتیجہ بعد میں گائے پرستی کی شکل میں نمودار ہوا۔ اُن کو دیکھ کر بنی اسرائیل  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: اے موسیٰ! جس طرح ان کے لئے کئی معبود ہیں جن کی یہ عبادت اور تعظیم کرتے ہیں ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو تاکہ ہم بھی ا س کی عبادت کریں اور تعظیم بجا لائیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم جا ہل لوگ ہوکہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ (2)
	نوٹ: یاد رہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ عرض سارے بنی اسرائیل نے نہ کی تھی کیونکہ ان میں حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور دیگر بزرگ اولیاءُ اللہرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ بھی تھے ،بلکہ اُن لوگوں نے کی تھی جو ابھی تک راسخُ الایمان نہ ہوئے تھے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۸، ۲/۲۹۱۔
2…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۸، ۲/۱۳۳، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۸، ۵/۳۴۹، ملتقطاً۔