{ وَ اِذْ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ:اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں نجات دی۔} اس آیت کی تفسیر سورۂ بقرہ آیت 49میں گزر چکی ہے۔ اس مقام پر یہ آیت ذکر کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے تم پر یہ عظیم انعام فرمایا تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت میں مشغول ہونا کیسے روا ہو گا؟ (1)
وَ وٰعَدْنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیۡقٰتُ رَبِّہٖۤ اَرْبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ وَقَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخْلُفْنِیۡ فِیۡ قَوْمِیۡ وَ اَصْلِحْ وَلَاتَتَّبِعْ سَبِیۡلَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس (راتوں ) کا اضافہ کر کے پورا کردیا تو اس کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کاپورا ہوگیا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا:تم میری قوم میں میرا نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کے راستے پر نہ چلنا۔
{ وَ وٰعَدْنَا مُوۡسٰی:اور ہم نے موسیٰ سے وعدہ فرمایا۔} اس آیت میں تورات نازل ہونے کی کیفیت کا بیان ہے ۔
نُزولِ تورات کا واقعہ :
اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مصر میں بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ اُن کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے گا تو وہ اُن کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کر دیاتو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۱، ۵/۳۵۱۔