اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کفر نہ چھوڑا تو جو میعاداُن کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی وہ پوری ہونے کے بعد اُنہیں اللہ تعالیٰ نے دریائے نیل میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔ (1)
{ وَ اَوْرَثْنَا:اور ہم نے مالک بنا دیا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل کو غیبی خبر دی تھی کہ ’’ عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گا‘‘ جیساآپ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کر کے ہلاک کر دیا، اس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو پورے مصرو شام کا مالک بنا دیا، اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ (2)
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کے غرق ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون کے مَظالِم کا شکار بنی اسرائیل کو سرزمین کے مشرق و مغرب یعنی مصر و شام کا مالک بنا دیا۔ اس سر زمین میں اللہ تعالیٰ نے نہروں ، درختوں ، پھلوں ، کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے برکت رکھی تھی اس طرح بنی اسرائیل پر ان کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اُن تمام عمارتوں ، ایوانوں اور باغوں کوبرباد کر دیا جو فرعون اور اس کی قوم نے بنائے تھے۔ اس آیت میں صبر کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کو ان کے صبر کی وجہ سے عزت، غلبہ، خوشحالی اور حکمرانی نصیب ہوئی۔
وَجٰوَزْنَا بِبَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوۡنَ عَلٰۤی اَصْنَامٍ لَّہُمْ ۚ قَالُوۡا یٰمُوۡسَی اجْعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِـہَۃٌ ؕ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمْ فِیۡہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے تھے بولے اے موسیٰ ہمیں ایک خدا بنا دے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو۔ یہ حال تو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۶، ۲/۱۳۲۔
2 …تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۷، ۵/۳۴۸، ملتقطاً۔