فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤی اَجَلٍ ہُمۡ بَالِغُوۡہُ اِذَا ہُمْ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾ فَانۡتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوۡا عَنْہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾ وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا یُسْتَضْعَفُوۡنَ مَشٰرِقَ الۡاَرْضِ وَ مَغٰرِبَہَا الَّتِیۡ بٰرَکْنَا فِیۡہَا ؕ وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ ۬ۙ بِمَا صَبَرُوۡا ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُہٗ وَمَا کَانُوۡا یَعْرِشُوۡنَ ﴿۱۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے لیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے۔ تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے۔اور ہم نے اس قوم کو جو دبا لی گئی تھی اس زمین کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بدلہ ان کے صبر کا اور ہم نے برباد کردیا جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب ہم ان سے اس مدت تک کے لئے عذاب اٹھالیتے جس تک انہیں پہنچنا تھا تو وہ فوراً (اپنا عہد) توڑ دیتے۔ تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا کیونکہ انہوں نے ہماری آیتوں کوجھٹلایا اور ان سے بالکل غافل رہے۔اور ہم نے اس قوم کو جسے دبایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا اور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور وہ عمارتیں جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔
{ فَانۡتَقَمْنَا مِنْہُمْ:تو ہم نے ان سے بدلہ لیا۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جب بار بار فرعونیوں کو عذابوں سے نجات دی گئی