Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
405 - 558
مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾ۚ وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیۡنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں یہ تو بڑا جعل  ہے جو تم سب نے شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو تو اب جان جاؤ گے۔ قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا۔ بولے ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۔ اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: فرعون نے کہا: تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ یہ تو بہت بڑا دھوکہ ہے جو تم نے اس شہر میں کیا ہے تاکہ تم شہر کے لوگوں کو اس سے نکال دو تو اب تم جان جاؤ گے۔میں ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو پھانسی دے دوں گا۔ (جادوگر) کہنے لگے : بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ اور تجھے ہماری طرف سے یہی بات بری لگی ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آئیں۔ اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں حالتِ اسلام میں موت عطا فرما۔ 
{ قَالَ فِرْعَوْنُ:فرعون بولا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی 3آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادو گر حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آئے تو یہ دیکھ کر فرعون بولا: میری اجازت کے بغیر تم ایمان کیوں لے آئے؟ یہ تو بہت بڑا دھوکہ ہے جو تم اور حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سب نے متفق ہو کر اس شہر میں کیا ہے ۔تم سب شاگرد ہو اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تمہارے استاد ہیں ، تم نے خفیہ ساز باز کر کے یہ مقابلہ کیا اور تم جان بوجھ کر ہار گئے تاکہ تم شہر کے لوگوں کو اس سے نکال دو اور خود اس پر مُسلَّط ہوجاؤ تو اب تم جان جاؤ گے کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح پیش آتا ہوں اور میں تمہیں کیا سزا دوں گا۔ میں ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو