دریائے نیل کے کنارے پھانسی دے دوں گا۔ فرعون کی اس گفتگو پر جادو گروں نے یہ جواب دیا: بیشک ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف پلٹنے والے ہیں ،تو ہمیں موت کا کیا غم ؟ کیونکہ مرنے کے بعد ہمیں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی لِقاء اور اس کی رحمت نصیب ہوگی اور جب سب کو اسی کی طرف رجوع کرنا ہے تو وہ خود ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ اس کے بعد ان جادو گروں نے صبر کی دعا کی کہ’’ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ ‘‘ اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں حالتِ اسلام میں موت عطا فرما۔
{ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیۡنَ:پھر تم سب کو سُو لی دوں گا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ دنیامیں پہلا سولی دینے والا اور پہلا ہاتھ پاؤں کاٹنے والا فرعون ہے۔ (1)
{ قَالُوۡۤا:(جادوگر) کہنے لگے ۔} اس سے معلوم ہوا کہ مومن کے دل میں جذبۂ ایمانی کے غلبے کے وقت غیرُاللہ کا خوف نہیں ہوتا۔ حق قبول کرنے کے بعد ان جادو گروں کا حال یہ ہوا کہ فرعون کی ایسی ہوش رُبا سزا سن کر بھی ان کے قدم ڈگمگائے نہیں بلکہ انہوں نے مجمعِ عام میں فرعون کے منہ پر اس کی دھمکی کا بڑی جرأت کے ساتھ جواب دیا اور اپنے ایمان کو کسی تَقیہ کے غلاف میں نہ لپیٹا۔
{ وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِیۡنَ:اور ہمیں حالتِ اسلام میں موت عطا فرما۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا یہ لوگ دن کے اوّل وقت میں جادوگر تھے اور اسی روز آخر وقت میں شہید۔ (2)
معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صحبت نے پرانے کافروں کو ایک دن میں ایمان، صحابیت ، شہادت تمام مَدارج طے کر ا دئیے، صحبت کا فیض سب سے زیادہ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ فرعون انہیں شہید نہ کرسکا تھا۔ (3)
وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنۡ قَوْمِ فِرْعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰی وَ قَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوۡا فِی الۡاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَ اٰلِہَتَکَ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَہُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَہُمْ ۚ وَ اِنَّا فَوْقَہُمْ قٰہِرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۴/۱۸۷، الجزء السابع۔
2…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۶، ۲/۱۲۸۔
3…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۵/۳۳۹۔