Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
403 - 558
 ایمان لائے ۔جو موسیٰ اور ہارون کارب ہے۔
{ فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ:تو تمہارا کیا مشورہ ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی 12 آیات میں مذکور واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ درباریوں نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات دیکھ کر انہیں بہت ماہر جادوگر سمجھا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے جادو کے زور سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا کر مملکت پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں تو فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا: تم اس کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: تم حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بھائی حضرت ہارونعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو چند روز کی مہلت دو اور شہروں میں اپنے خاص آدمی بھیج دو تاکہ وہ ایسے جادو گر جمع کر کے لائیں جو جادو میں ماہر ہوں اور سب پر فائق ہوں تا کہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مقابلہ کر کے انہیں شکست دیں۔ چنانچہ فرعون نے اپنی مملکت کے تمام ماہر جادو گروں کو جمع کر لیا۔ ان جادو گروں کو علم تھا کہ جس مقصد کے لئے انہیں طلب کیا گیا ہے وہ بڑا اہم ہے چنانچہ انہوں نے فرعون سے کہا: اگر ہم غالب آگئے اور حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شکست دے دی تو کیا ہمیں یقینی طور پر کوئی شاہانہ انعام ملے گا۔ فرعون یہ تسلی آمیز الفاظ سن کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا: بے شک تمہیں انعام واکرام سے نوازا جائے گا اور صرف یہی نہیں بلکہ تمہیں میرے خاص قریبی لوگوں میں داخل کر لیا جائے گا۔ یہ جادوگر کل ستر ہزار تھے جن میں چند سردار تھے، جب مقابلے کا دن آیا تو سب مقررہ جگہ پر جمع ہوئے، مقابلے کا آغاز ہوا توجادوگروں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے کہا: اے موسیٰ! یا تو آپ پہلے اپنا عصا زمین پرڈالیں یا ہم اپنے پاس موجود چیزیں ڈالتے ہیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: تم ہی پہلے ڈالو۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ فرمانا اس لئے تھا کہ آپ کو ان کی کچھ پرواہ نہ تھی اور آپ کو کامل اعتماد تھا کہ ان کے معجزے کے سامنے سحر ناکام و مغلوب ہوگا۔ جب انہوں نے اپنا سامان ڈالا جس میں بڑے بڑے رسے اور لکڑیاں تھیں تو وہ اژدہے نظر آنے لگے اور میدان ان سے بھرا ہوا معلوم ہونے لگا۔ لوگ یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو وحی فرمائی کہ تم اپنا عصا ڈال دو۔ جب حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا عصا ڈالا تو وہ ایک عظیم الشان اژدہا بن گیا۔ وہ جادو گروں کی سحر کاریوں کو ایک ایک کرکے نگل گیا اور تمام رسے اور لٹھے جو اُنہوں نے جمع کئے تھے جو تین سو اونٹ کا بار تھے سب کا خاتمہ کردیا جب موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کو دستِ مبارک میں لیا تو پہلے کی طرح عصا ہوگیا اور اس کا حجم اور وزن اپنے حال پر رہا یہ دیکھ کر جادو گروں نے پہچان لیا کہ عصائے