انہیں کس طرح ہلاک کیا۔ (1)
حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مختصرتعارف:
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد کا نام عمران اور آپ کی والدہ کا نام ا یارخا بھی مذکور ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات سے چار سو برس اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے سات سو برس بعد پیدا ہوئے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک سو بیس برس عمر پائی۔ (2)
نوٹ:حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زندگی کے اہم واقعات اللہ تعالیٰ نے اس سورت اور دیگر سورتوں میں بیان فرمائے ہیں ان کی تفصیل اِنْ شَآئَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان آیتوں کی تفسیر میں بیان کی جائے گی۔
فرعون کا مختصر تعارف:
فرعون اصل میں ایک شخص کا نام تھا پھر دورِ جاہلیت میں یہ مصر کے ہر بادشاہ کا لقب بن گیا۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا۔ (3)
وَقَالَ مُوۡسٰی یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں پرور دگا رِ عالم کا رسول ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور موسیٰ نے فرمایا: اے فرعون! میں ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔
{ وَقَالَ مُوۡسٰی یٰفِرْعَوْنُ:اور موسیٰ نے فرمایا: اے فرعون!۔} جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرعون کے پاس تشریف لے گئے تواسے اللہ تعالیٰ کی رَبُوبِیَّت کا اقرار کرنے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۵/۳۲۵، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۲/۱۲۳-۱۲۴، ملتقطاً۔
2…البدایہ والنہایہ، ذکر قصۃ موسی الکلیم علیہ الصلاۃ والتسلیم، ۱/۳۲۶،۳۲۹، صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۲/۶۹۶، ملتقطاً۔
3…صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۲/۶۹۶۔