Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
396 - 558
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۡۢ بَعْدِہِمۡ مُّوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَا۠ئِہٖ فَظَلَمُوۡا بِہَا ۚ فَانۡظُرْکَیۡفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾

ترجمۂکنزالایمان: پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں کا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی تو دیکھو فسادیوں کاکیسا انجام ہوا؟ 
{ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۡۢ بَعْدِہِمۡ مُّوۡسٰی:پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو بھیجا۔} اس سورت میں جو واقعات مذکور ہیں ان میں سے یہ چھٹا قصہ ہے۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کو ما قبل ذکر کئے گئے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات کے مقابلے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات ان انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھے اور آپ کی قوم کی جہالت بھی دیگر نبیوں کی اقوام کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ (1)
	اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ا س سے پہلی آیات میں جن انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر ہوا ان کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی نشانیوں جیسے روشن ہاتھ اور عصا وغیرہ معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جو نشانیاں لے کر آئے تھے وہ بالکل صاف واضح اور ظاہر تھیں لیکن پھر بھی فرعون اور اس کے درباریوں نے اقرار کی بجائے انکار ہی کیا تو انہوں نے اقرار کی جگہ انکار اور ایمان کی جگہ کفر کو رکھ کر حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نشانیوں کے ساتھ زیادتی کی تو اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ نگاہِ بصیرت سے دیکھیں کہ فسادیوں کاکیسا انجام ہوا اور ہم نے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۵/۳۲۴۔