Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
398 - 558
 سے فرمایا: میں ربُّ العالمین کی طرف سے تیری جانب اور تیری قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (1)
	نوٹ:سورۂ شعراء اور سورۂ طٰہٰ میں اس سے پہلے کا تفصیلی واقعہ مذکورہے۔
حَقِیۡقٌ عَلٰۤی اَنۡ لَّاۤ اَقُوۡلَ عَلَی اللہِ اِلَّا الْحَقَّ ؕ قَدْ جِئْتُکُمۡ بِبَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ ﴿۱۰۵﴾ؕ 
ترجمۂکنزالایمان: مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: میری شان کے لائق یہی ہے کہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہوں۔ بیشک میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کرآیا ہوں تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔
{ حَقِیۡقٌ:میری شان کے لائق یہی ہے ۔} حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا کلام سن کر فرعون نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو، اس پر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’میری شان کے لائق یہی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہوں کیونکہ رسول کی یہی شان ہے کہ وہ کبھی غلط بات نہیں کہتے۔ (2)اور میں تمہارے پاس تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نشانیاں یعنی معجزات لے کرآیا ہوں۔ 
{ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ:تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔} جب حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی رسالت کی تبلیغ سے فارغ ہوئے تو چونکہ آپ کا رسول ہونا ثابت ہو چکا تھا اور فرعون پر آپ کی اطاعت فرض ہو گئی تھی اس لئے آپ نے فرعون کوحکم فرمایا: ’’ تو بنی اسرائیل کواپنی غلامی سے آزاد کردے تاکہ وہ میرے ساتھ ارضِ مُقَدَّسہ میں چلے جائیں جو اُن کا وطن ہے۔ بنی اسرائیل کی غلامی کا سبب یہ ہو اتھا کہ حضرت یعقوبعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی وجہ سے اپنے وطن فلسطین سے ہجرت کر کے مصر میں آباد ہو گئی، مصر میں ان کی نسل کافی بڑھی، جب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۲/۱۲۴۔
2…مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ص۳۷۸۔