Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
382 - 558
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو شعیب نے ان سے منہ پھیرلیا اور فرمایا، اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی تو کافر قوم پر میں کیسے غم کروں ؟ 
{ وَ قَالَ:اورفرمایا۔} جب حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم پر عذاب آیا تو آپ نے ان سے منہ پھیر لیا اور قوم کی ہلاکت کے بعد جب آپ ان کی بے جان نعشوں پر گزرے تو ان سے فرمایا ’’ اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم کسی طرح ایمان نہ لائے ۔(1)
مردے سنتے ہیں :
	کفار کی ہلاکت کے بعد حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے جو کلام فرمایا ا س سے معلوم ہو اکہ مردے سنتے ہیں۔ حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو سنایا، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّکے نبی حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم کو سنایا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی قوم کو سنایا۔ (2)
	مُردوں کے سننے کی قوت سے متعلق بخاری شریف میں ہے’’ جب ابوجہل وغیرہ کفار کو بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا تو اس وقت رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان سے خطاب فرمایا ’’فَہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا‘‘  توکیا تم نے اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا؟حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ایسے جسموں سے کلام فرما رہے ہیں کہ جن کے اندر روحیں نہیں۔ ارشاد فرمایا ’’وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہ مَا اَنْتُمْ بِاَسْمَعَ لِمَا اَقُولُ مِنْہُمْ‘‘اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کی جان ہے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے۔ (3)
سابقہ اُمتوں کے احوال بیان کرنے سے مقصود:
	پچھلی امتوں کے احوال اور ان پر آنے والے عذابات کے بیان سے مقصود صرف ان کی داستانیں سنانا نہیں بلکہ مقصودنبی آخر الزّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی امت کو جھنجوڑنا ہے۔ اِن کے سامنے اُن قوموں کا حال بیان کیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۴، ۲/۶۹۴، ملخصاً۔
2…تفسیر ابن ابی حاتم، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۳، ۵/۱۵۲۴۔
3…بخاری، کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل، ۳/۱۱، الحدیث: ۳۹۷۶۔