Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
381 - 558
اورہلاکت کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہاں کبھی کوئی آباد ہی نہیں ہوا۔ (1)
{ کَانُوۡا ہُمُ الْخٰسِرِیۡنَ: وہی نقصان اٹھانے والے ہوئے۔} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کے لوگ اس خوف کی وجہ سے آپ پر ایمان نہیں لاتے تھے کہ اگر انہوں نے ان پر ایمان لا کر ان کی شریعت پر عمل شروع کر دیا تو وہ معاشی بد حالی کی دلدل میں پھنس جائیں گے ،اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تنبیہ فرمائی کہ جس خوف کی وجہ سے وہ قبولِ ایمان سے دور تھے وہ درست ثابت نہ ہوا بلکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا کہ جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے نبی پر ایمان لا کر ان کی شریعت کی پیروی کی وہ تو دین و دنیا دونوں میں کامیاب ہو گئے اور جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اورآپ کی نافرمانی کی ،ان کی دنیا تو برباد ہوئی، اس کے ساتھ آخرت بھی برباد ہو گئی۔ لہٰذاا نقصان تو ان لوگوں نے اٹھایا ہے جو سر کش اور نافرمان تھے نہ کہ انہوں نے جو تابع اور فرماں بردار تھے۔ (2)
اقتصادی اور معاشی بہتری اسلامی احکام پر عمل کرنے میں ہے:
	اہلِ مدین کے حالات میں ان لوگوں کے لئے بہت عبرت ہے کہ جو محض نام نہاد اور بے بنیاد اقتصادی زبوں حالی کے خوف سے شریعتِ اسلامیہ کے واضح احکام میں رد و بدل کرنے کیلئے پیچ و تاب کھاتے نظر آتے ہیں ،ایسے حضرات کو چاہئے کہ مدین والوں کے حالات کا بغور مطالعہ کریں اور اپنی اس روش کو بدل کر صحیح اسلامی سوچ اپنانے کی کوشش کریں اور معاشی بہتری کے لئے اسلام کے دئیے ہوئے اصول و قوانین پر عمل کریں پھر دیکھیں کہ کیسے یہ اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔
فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَنَصَحْتُ لَکُمْۚ فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿۹۳﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم میں تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی تو کیونکر غم کروں کافروں کا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1 …تفسیر طبری، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۲، ۶/۶، ملتقطاً۔
2…مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۲، ص۳۷۵، ملخصاً۔