Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
383 - 558
 گیا ہے کہ جن سے عرب کے لوگ واقف تھے ،جن کے کھنڈرات عربوں کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہوں کے ارد گرد واقع تھے ،جن کی خوشحالی، بالا دستی اور غلبہ و اقتدار کی بڑی شہرت تھی اور پھر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نافرمانی کے باعث ان کی تباہی و بربادی کے دِلخراش واقعات ہوئے جوسب کو معلوم تھے، یہ واقعات اور حالات بتا کر انہیں آگاہ کیا کہ محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَبھی انہیں تعلیمات کو کامل اور مکمل صورت میں تمہارے پاس لائے ہیں جو پہلے نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی اپنی امتوں کو اپنے زمانے میں دیں ، اگر تم نے بھی انکار کیا اور سرکشی کی رَوِش اختیار کی تو یاد رکھو تمہارا انجام بھی و ہی ہو گاجو پہلے منکرین کا ہوتا آیا ہے۔ دونوں جہاں کی سعادت اور سلامتی مطلوب ہے تو رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی اطاعت کرو اور ان کا دامنِ رحمت مضبوطی سے تھا م لو ،تمہیں دنیا و آخرت دونوں میں سربلندی نصیب ہو جائے گی۔
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیۡ قَرْیَۃٍ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَہۡلَہَا بِالْبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوۡنَ ﴿۹۴﴾ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوۡا وَّقَالُوۡا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمۡ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ ﴿۹۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا کہ وہ کسی طرح زاری کریں۔ پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہ بھیجامگر ہم نے اس کے رہنے والوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا تاکہ وہ گڑگڑائیں۔  پھر ہم نے بدحالی کی جگہ خوشحالی بدل دی یہاں تک کہ وہ بہت بڑھ گئے اور وہ کہنے لگے :بیشک ہمارے باپ