’’ وَاَخَذَتِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الصَّیۡحَۃُ ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا۔
تفسیر ابوسعود میں ہے ’’ ممکن ہے کہ زلزلے کی ابتداء اس چیخ سے ہوئی ہو، اس لئے کسی جگہ جیسے سورۂ ہود میں ہلاکت کی نسبت سببِ قریب یعنی خوفناک چیخ کی طرف کی گئی اور دوسری جگہ جیسے اس آیت میں سببِ بعید یعنی زلزلے کی طرف کی گئی۔ (2)
حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اصحابِ اَیکَہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مدین کی طرف بھی ۔اصحابِ ایکہ توابر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مدین زلزلہ میں گرفتار ہوئے اور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہوگئے۔ (3)
الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا شُعَیۡبًا کَاَنۡ لَّمْ یَغْنَوْا فِیۡہَا ۚۛ اَلَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا شُعَیۡبًا کَانُوۡا ہُمُ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿۹۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: شعیب کو جھٹلانے والے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے شعیب کو جھٹلانے والے وہی تباہی میں پڑے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا ایسے ہوگئے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ شعیب کو جھٹلانے والے ہی نقصان اٹھانے والے ہوئے۔
{ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا شُعَیۡبًا:شعیب کو جھٹلانے والے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والوں پر جب مسلسل نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آیا تو وہ ہلاکت و بربادی سے دوچار ہو گئے ، ان کے شاندار محلات جہاں زندگی اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ جلوہ گر تھی ایسے ویران ہو گئے کہ وہاں ہر سُو خاک اڑنے لگی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 …ہود:۹۴۔
2…ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲/۲۷۶۔
3…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲/۱۲۰۔